بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 21319
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 21319
حدیث نمبر: 21319 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ، زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ ، أَبُو ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ : لَأَنْ أَحْلِفَ عَشْرَ مِرَارٍ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ هُوَ الدَّجَّالُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ مَرَّةً وَاحِدَةً أَنَّهُ لَيْسَ بِهِ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي إِلَى أُمِّهِ، فَقَالَ: " سَلْهَا كَمْ حَمَلَتْ بِهِ"، قَالَ: فَأَتَيْتُهَا فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: حَمَلْتُ بِهِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا، قَالَ: ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهَا، فَقَالَ:" سَلْهَا عَنْ صَيْحَتِهِ حِينَ وَقَعَ"، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: صَاحَ صَيْحَةَ الصَّبِيِّ ابْنِ شَهْرٍ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبْئًا" قَالَ: خَبَأْتَ لِي خَطْمَ شَاةٍ عَفْرَاءَ وَالدُّخَانَ، قَالَ: فَأَرَادَ أَنْ يَقُولَ: الدُّخَانَ فَلَمْ يَسْتَطِعْ، فَقَالَ: الدُّخُّ الدُّخُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْسَأْ، فَإِنَّكَ لَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے دس مرتبہ یہ قسم کھانا کہ ابن صیاد ہی دجال ہے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک مرتبہ اس کے دجال نہ ہونے کی قسم کھاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے اس کی ماں کے پاس بھیجا اور فرمایا اس سے پوچھ کر آؤ کہ وہ ابن صیاد سے کتنے عرصے تک حاملہ رہی؟ چنانچہ میں نے اس سے جاکر پوچھا تو اس نے بتایا میں اس سے بارہ مہینے تک حاملہ رہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دوبارہ اس کے پاس بھیجا اور فرمایا اس سے یہ پوچھو کہ جب وہ پیدا ہوا تو اس کی آواز کیسی تھی؟ میں نے دوبارہ جا کر اس سے یہ سوال پوچھا تو اس نے بتایا جیسے ایک مہینے کے بچے کی آواز ہوتی ہے یہ اس طرح رویا چیخا تھا۔ پھر ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ میں نے تیرے لئے ایک بات اپنے ذہن میں سوچی ہے بتا وہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ آپ نے میرے لئے ایک سفید بکری کی ناک اور دھواں سوچا ہے وہ " دخان " کا لفظ کہنا چاہتا تھا لیکن کہہ نہ سکا اس لئے صرف دخ دخ ہی کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا دور ہو تو اپنی حیثیت سے آگے ہرگز نہیں بڑھ سکتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21319]
حکم دارالسلام
حديث منكر لأجل الحارث بن حصيرة، وأما حديث صياد يعني أصل حديثه فقد رواه جماعة من أصحاب النبى عنه بأسانيد صحاح
الحكم: حديث منكر لأجل الحارث بن حصيرة، وأما حديث صياد يعني أصل حديثه فقد رواه جماعة من أصحاب النبى عنه بأسانيد صحاح
← پچھلی حدیث (21318) باب پر واپس اگلی حدیث (21320) →