بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 21227
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 21227
حدیث نمبر: 21227 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَكِيعٌ ، أَبُو جَعْفَرٍ ، الرَّبِيعِ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ، عُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ ، أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: (هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ) سورة الأنعام آية 65، قَالَ: " هُنَّ أَرْبَعٌ وَكُلُّهُنَّ عَذَابٌ، وَكُلُّهُنَّ وَاقِعٌ لَا مَحَالَةَ، فَمَضَتْ اثْنَتَانِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً، فَأُلْبِسُوا شِيَعًا، وَذَاقَ بَعْضُهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، وَبَقِي َثِنْتَانِ وَاقِعَتَانِ لَا مَحَالَةَ الْخَسْفُ وَالرَّجْمُ" ، حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ: (قُلْ هُوَ الْقَادِرُ) سورة الأنعام آية 65 فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: الْخَسْفُ وَالْقَذْفُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اس ارشاد باری تعالیٰ " و ہو القادر علی ان یبعث علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔ " کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہ چار چیزیں ہیں اور چاروں عذاب ہیں اور سب کی سب یقینا واقع ہو کر رہیں گی چنانچہ ان میں سے دو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے صرف پچیس سال بعد ہی واقع ہوگئیں یعنی مسلمان مختلف فرقوں میں بٹ گئے اور ایک دوسرے سے جنگ کا مزہ چکھنے لگے اور دو رہ گئیں جو یقینا رونما ہو کر رہیں گی یعنی زمین میں دھنسنا اور آسمان سے پتھروں کی بارش ہونا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21227]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى جعفر الرازي، وقد خولف
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى جعفر الرازي، وقد خولف
← پچھلی حدیث (21226) باب پر واپس اگلی حدیث (21228) →