رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ، عُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ ، أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، الرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّهُمْ جَمَعُوا الْقُرْآنَ فِي مَصَاحِفَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ رِجَالٌ يَكْتُبُونَ وَيُمْلِي عَلَيْهِمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ مِنْ سُورَةِ بَرَاءَةٌ ثُمَّ انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لا يَفْقَهُونَ سورة التوبة آية 127 فَظَنُّوا أَنَّ هَذَا آخِرُ مَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ لَهُمْ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِي بَعْدَهَا آيَتَيْنِ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ إِلَى وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ سورة التوبة آية 128 - 129، ثُمَّ قَالَ: هَذَا آخِرُ مَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَخُتِمَ بِمَا فُتِحَ بِهِ بِ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ سورة طه آية 98 وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا أَنَا فَاعْبُدُونِ سورة الأنبياء آية 25" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں انہوں نے قرآن کریم کو جمع کیا جو کہ مصاحف کی شکل میں تھا کچھ افراد لکھتے تھے اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ انہیں املاء کرواتے تھے جب وہ سورت برأت کی اس آیت " ثم انصرفوا صرف اللہ قلوبہم۔۔۔۔۔۔۔۔ " پر پہنچے تو دیگر صحابہ رضی اللہ عنہ کا یہ خیال تھا کہ قرآن کریم کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیات یہی ہیں لیکن حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس کے بعد بھی دو آیتیں پڑھائی ہیں " لقدجائکم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤوف رحیم الی وہورب العرش العظیم " اور فرمایا کہ یہ وہ آیات ہیں جو قرآن کریم میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ہیں اور قرآن کریم کا اختتام بھی ان ہی آیات پر ہوا جن سے وحی کا آغاز ہوا تھا یعنی اس اللہ کے نام سے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں حضرت ابی رضی اللہ عنہ کا اشارہ اس آیت کی طرف تھا کہ " ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھی بھیجے ہر ایک طرف یہی وحی کی گئی کہ میرے علاوہ کوئی معبود نہیں لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21226]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى جعفر الرازي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى جعفر الرازي