رَوْحٌ ، أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ ، خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ ، حَدَّثَنِي أَبِي خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ ، قَالَ: إِنَّا لَقُعُودٌ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَنْتَظِرُ أَنْ يَخْرُجَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ" اسْمَعُوا"، فَقُلْنَا سَمِعْنَا، ثُمَّ قَالَ" اسْمَعُوا"، فَقُلْنَا: سَمِعْنَا، فَقَالَ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ، فَلَا تُعِينُوهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ فَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ظہر کی نماز کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے باہر آنے کا انتظار کررہے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے تو فرمایا میری بات سنو صحابہ نے لبیک کہا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری بات سنو صحابہ نے پھر حسب سابق جواب دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم پر کچھ حکمران آئیں گے تم ظلم پر ان کی مدد نہ کرنا اور جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا وہ میرے پاس حوض کوثر پر ہرگز نہیں آسکے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21074]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك لم يسمع من عبدالله بن خباب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك لم يسمع من عبدالله بن خباب