بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 21072
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 21072
حدیث نمبر: 21072 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، خَبَّابٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ ، وَقَدْ اكْتَوَى سَبْعًا، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ"، لَتَمَنَّيْتُهُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَمْلِكُ دِرْهَمًا، وَإِنَّ فِي جَانِبِ بَيْتِي الْآنَ لَأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ بِكَفَنِهِ، فَلَمَّا رَآهُ بَكَى، قَالَ: لَكِنَّ حَمْزَةَ لَمْ يُوجَدْ لَهُ كَفَنٌ إِلَّا بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ، إِذَا جُعِلَتْ عَلَى رَأْسِهِ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَيْهِ، وَإِذَا جُعِلَتْ عَلَى قَدَمَيْهِ قَلَصَتْ عَنْ رَأْسِهِ، حَتَّى مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ، وَجُعِلَ عَلَى قَدَمَيْهِ الْإِذْخِرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حارثہ کہتے ہیں کہ میں حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لئے حاضر ہوا انہوں نے اپنے جسم کو داغا ہوا تھا مجھے دیکھ کر انہوں نے فرمایا کہ جتنی تکلیف مجھے ہے میں نہیں سمجھتا کہ کسی کو اتنی تکلیف ہوئی ہوگی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں مجھے ایک درہم نہ ملتا تھا اور اب میرے اسی گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم دفن ہیں۔ اگر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنانہ کرے تو میں ضرور اس کی تمنا کرلیتا۔ پھر ان کے پاس ایک کفن لایا گیا جسے دیکھ کر وہ رونے لگے اور فرمایا کہ حضرت حمزہ کو تو یہ کفن بھی نہ ملا تھا ایک سادہ چادر تھی جو اگر ان کے سر پر ڈالی جاتی تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں پر ڈالی جاتی تو سر کھل جاتا چنانچہ اس سے سر کو ڈھانپ دیا گیا اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دی گئی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 21072]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (21071) باب پر واپس اگلی حدیث (21073) →