بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 20993
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 20993
حدیث نمبر: 20993 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو كَامِلٍ ، وَبَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكٍ ، أَبُو كَامِلٍ ، سِمَاكٌ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ ، أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ بِالْحَرَّةِ مَعَهُ أَهْلُهُ وَوَلَدُهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنِّي أَضْلَلْتُ نَاقَةً لِي، فَإِنْ وَجَدْتَهَا فَأَمْسِكْهَا، فَوَجَدَهَا، فَمَرِضَتْ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: انْحَرْهَا، فَأَبَى، فَنَفَقَتْ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: قَدِّدْهَا حَتَّى نَأْكُلَ مِنْ لَحْمِهَا وَشَحْمِهَا، قَالَ: حَتَّى أَسْتَأْمِرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ" هَلْ لَكَ غِنًى يُغْنِيكَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَكُلُوهَا"، قَالَ: فَجَاءَ صَاحِبُهَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَلَا كُنْتَ نَحَرْتَهَا؟ قَالَ: اسْتَحَيْتُ مِنْكَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی اپنے والد کے ساتھ حرہ میں رہتا تھا اس سے کسی نے کہا کہ میری اونٹنی بھاگ گئی ہے اگر تمہیں ملے تو اسے پکڑ لاؤ اتفاق سے اس آدمی کو وہ مل گئی لیکن اس کا مالک واپس نہ آیا یہاں تک کہ وہ بیمار ہوگئی اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ اسے ذبح کرلو تاکہ ہم اسے کھا سکیں لیکن اس نے ایسا نہیں کیا حتی کہ وہ اونٹنی مرگئی اس کی بیوی نے پھر کہا کہ اس کی کھال کو اتار دو تاکہ اب تو اس کے گوشت کو چربی کے ٹکرے کرلے اس نے کہا کہ میں پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھوں گا اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اتنا ہے کہ تمہیں اس اونٹنی سے مستغنی کردے اس نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم جا کر اسے کھالو کچھ عرصہ بعد اس کا مالک بھی آگیا اور سارا واقعہ سن کر اس نے کہا تم نے اسے ذبح کیوں نہ کرلیا اس نے جواب دیا مجھے تم سے حیاء آئی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20993]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، تفرد به سماك بن حرب، ومثله لا يحتمل فى مثل هذا المتن
الحكم: إسناده ضعيف، تفرد به سماك بن حرب، ومثله لا يحتمل فى مثل هذا المتن
← پچھلی حدیث (20992) باب پر واپس اگلی حدیث (20994) →