وَكِيعٌ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَتْ عِيرٌ الْمَدِينَةَ، فَاشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا فَرَبِحَ أَوَاقِيَّ، فَقَسَمَهَا فِي أَرَامِلِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَقَالَ:" لَا أَشْتَرِي شَيْئًا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں کچھ اونٹ آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے کوئی اونٹ خرید لیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چند اوقیہ چاندی کا منافع ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ منافع بنو عبدالمطلب کی بیوہ عورتوں پر تقسیم فرما دیا اور فرمایا کہ ”میں ایسی چیز نہیں خریدتا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2093]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ وسماك فى روايته عن عكرمة مضطرب.
الحكم: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ وسماك فى روايته عن عكرمة مضطرب.