وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ ، رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، عَمْرٌو ، طَاوُسٌ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، قَالَ عَمْرٌو ذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ، فَقَالَ طَاوُسٌ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَمْنَحُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الْأَرْضَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ لَهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم بٹائی پر زمین دے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، بعد میں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات طاؤس سے ذکر کی تو انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ ”تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2087]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550 .