أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، سِمَاكٌ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ يَخْطُبُ فِي الْجُمُعَةِ إِلَّا قَائِمًا"، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ جَلَسَ فَكَذِّبْهُ، فَإِنَّهُ لَمْ يَفْعَلْ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، ثُمَّ يَقْعُدُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ، كَانَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ، يَقْعُدُ بَيْنَهُمَا فِي الْجُمُعَةِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے اگر تم سے کوئی شخص یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیٹھ کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو خطبے دیتے تھے پہلے ایک خطبہ دیتے اور بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20865]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن