عَبْدُ الصَّمَدِ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحْتَجِمُ بِقَرْنٍ وَيُشْرَطُ بِطَرْفِ سِكِّينٍ، فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ شَمْخَ , فَقَالَ لَهُ: لِمَ تُمَكِّنُ ظَهْرَكَ أَوْ عُنُقَكَ مِنْ هَذَا يَفْعَلُ بِهَا مَا أَرَى؟ فَقَالَ: " هَذَا الْحَجْمُ وَهُوَ مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجام کو بلایا ہوا تھا وہ اپنے ساتھ سینگ لے کر آگیا اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سینگ لگایا اور نشتر سے چیر لگایا اسی اثناء میں فزارہ کا ایک دیہاتی بھی آگیا اس نے کہا یا رسول اللہ آپنے اسے اپنی کھال کاٹنے کی اجازت کیوں دیدی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے حجم کہتے ہیں کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20212]
الحكم: إسناده صحيح