يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شُعْبَةُ ، سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيَّ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا هَذَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ، وَلَكِنْ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ" ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَأَشَارَ يَزِيدُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہیں بلال کی اذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے یہاں تک کہ طلوع صبح صادق ہوجائے صبح صادق وہ روشنی ہوتی ہے جو افق میں چوڑائی کے اندر پھیلتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20203]
حکم دارالسلام
صحيح الغيره، م: 1094، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح الغيره، م: 1094، وهذا إسناد حسن