يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، حُصَيْنُ بْنُ أَبِي الْحُرِّ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، الْأَشْيَبُ ، شَيْبَانُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ الْعَنْبَرِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ: زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أخبرنا , عن عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ أَبِي الْحُرِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا حَجَّامًا، فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْجُمَهُ، فَأَخْرَجَ مَحَاجِمَ لَهُ مِنْ قُرُونٍ، فَأَلْزَمَهُ إِيَّاهُ، فَشَرَطَهُ بِطَرَفِ شَفْرَةٍ، فَصَبَّ الدَّمَ فِي إِنَاءٍ عِنْدَهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ , فَقَالَ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ عَلَامَ تُمَكِّنُ هَذَا مِنْ جِلْدِكَ يَقْطَعُهُ؟ قَالَ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" هَذَا الْحَجْمُ" قَالَ: وَمَا الْحَجْمُ؟ قَالَ:" هُوَ مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ" , حَدَّثَنَا الْأَشْيَبُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ الْعَنْبَرِيِّ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زُهَيْرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ بن جندب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجام کو بلایا ہوا تھا وہ اپنے ساتھ سینگ لے کر آگیا اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سینگ لگایا اور نشتر سے چیرا لگایا اسی اثنا میں بنوفزارہ کا ایک دیہاتی بھی آگیا جس کا تعلق بنوجزیمہ سے تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب اس نے سینگی لگواتے ہوئے دیکھا تو چونکہ اس کو سینگی کے متعلق کچھ معلوم نہیں تھا اس لئے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ یہ کیا ہے؟ آپ نے اسے اپنی کھال کاٹنے کے لئے دے دی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے حجم کہتے ہیں اس نے پوچھا کہ حجم کیا چیز ہوتی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا علاج کا سب سے بہترین طریقہ جس سے لوگ علاج کرتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20172]
الحكم: إسناده صحيح