بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 20151
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 20151
حدیث نمبر: 20151 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ وَهُوَ أَعْوَرُ عَيْنِ الشِّمَالِ، عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ، وَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى، وَيَقُولُ لِلنَّاسِ أَنَا رَبُّكُمْ، فَمَنْ قَالَ: أَنْتَ رَبِّي، فَقَدْ فُتِنَ، وَمَنْ قَالَ: رَبِّيَ اللَّهُ، حَتَّى يَمُوتَ، فَقَدْ عُصِمَ مِنْ فِتْنَتِهِ، وَلَا فِتْنَةَ بَعْدَهُ عَلَيْهِ وَلَا عَذَابَ، فَيَلْبَثُ فِي الْأَرْضِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يَجِيءُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ مُصَدِّقًا بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مِلَّتِهِ، فَيَقْتُلُ الدَّجَّالَ، ثُمَّ إِنَّمَا هُوَ قِيَامُ السَّاعَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کا خروج ہونے والا ہے اور وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا اور اس پر ایک موٹا ناخنہ ہوگا وہ مادر زاد اندھوں اور برص کی بیماری والوں کو تندرست کردے گا اور مردوں کو زندہ کردے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں جو شخص یہ اقرار کرلے تو میرا رب ہے وہ فتنہ میں پڑگیا اور جس نے یہ کہا میرا رب اللہ ہے وہ آخردم تک اس پر ڈٹا رہا تو وہ اس کے فتنے سے محفوظ ہوجائے گا اور اسے کسی آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا اور نہ ہی اسے کوئی عذاب ہوگا اور دجال زمین میں اس وقت تک رہے گا جب تک اللہ کو منظور ہوگا پھر مغرب کی جانب سے حضرت عیسیٰ کا نزول ہوگا اور وہ تشریف لائیں گے وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصدیق کریں گے اور ان کی ملت پر ہوں گے اور وہ دجال کو قتل کریں گے اور پھر قیامت قریب آجائے گی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20151]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
← پچھلی حدیث (20150) باب پر واپس اگلی حدیث (20152) →