عَبْدُ الصَّمَدِ ، ثَابِتٌ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ ، عَاصِمٌ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ذَكَرَ: أَنَّ الَّذِي يُحَدِّثُ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ فِي النَّبِيذِ بَعْدَ مَا نَهَى عَنْهُ ، مُنْذِرٌ أَبُو حَسَّانَ، ذَكَرَهُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , وَكَانَ يَقُولُ: مَنْ خَالَفَ الْحَجَّاجَ، فَقَدْ خَالَفَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عاصم کہتے ہیں یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ممانعت کے بعد خود ہی نبیذ کی اجازت دی تھی منذر ابوحسان حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بیان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جو حجاج کی مخالفت کرتا ہے وہ خلاف کرتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20134]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا لأجل منذر أبى حسان
الحكم: إسناده ضعيف جدا لأجل منذر أبى حسان