مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ , عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا حَدَّثْتُكَ حَدِيثًا، فَلَا تَزِيدُنَّ عَلَيْهِ"، وَقَالَ: " أَرْبَعٌ مِنْ أَطْيَبِ الْكَلَامِ، وَهُنَّ مِنَ الْقُرْآنِ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ" . ثُمَّ قَالَ: " لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ أَفْلَحًا وَلَا نَجِيحًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا يَسَارًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب میں تم سے کوئی حدیث بیان کیا کروں تو اس سے زیادہ کا مطالبہ نہ کیا کرو، اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلمات چار ہیں لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اور الحمدللہ ان میں سے جس سے بھی آغاز کرلو، کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے بچوں کا نام افلح، نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع) مت رکھو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20126]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إن كان هلال بن يساف سمعه من سمرة، وسماعه منه محتمل جدا، م: 2136
الحكم: إسناده صحيح إن كان هلال بن يساف سمعه من سمرة، وسماعه منه محتمل جدا، م: 2136