سُفْيَانُ ، ابْنِ جُدْعَانَ ، الْحَسَنِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ سورة الحج آية 1 , سَقَطَ عَلَى أَبِي كَلِمَةٌ رَاحِلَتَهُ، وَقَفَ النَّاسُ، قَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ ذَاكَ؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ سَقَطَتْ عَلَى أَبِي كَلِمَةٌ" يَقُولُ: يَا آدَمُ ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ , قَالَ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وتسعةً وَتِسْعِينَ إِلَى النَّارِ" قَالَ: فَبَكَوْا، قَالَ:" قَارِبُوا، وَسَدِّدُوا مَا أَنْتُمْ فِي الْأُمَمِ إِلَّا كَالرَّقْمَةِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے تو یہ آیت نازل ہوئی " اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی عظیم چیز ہے " (یہاں میرے والد سے ایک لفظ چھوٹ گیا ہے، دوسری روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلند آواز سے ان دو آیتوں کی تلاوت فرمائی، صحابہ رضی اللہ عنہ کے کان میں اس کی آواز پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریوں کو قریب کیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گرد) آ کر کھڑے ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ وہ دن ہوگا جب اللہ تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) سے پکار کر کہے گا کے اے آدم! جہنم کا حصہ نکالو، وہ پوچھیں گے کہ جہنم کا حصہ کیا ہے؟ تو ارشاد ہوگا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم کے لئے نکال لو، یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ رونے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قربت پیدا کرو اور راہ راست پر رہو، تمام امتوں میں تم لوگ صرف کپڑے پر ایک نشان کی مانند ہوگے، لیکن پھر بھی مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو گے بلکہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19884]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن جدعان ضعيف لكنه توبع، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع أيضاً
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن جدعان ضعيف لكنه توبع، الحسن البصري لم يسمع من عمران لكنه توبع أيضاً