بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 19883
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 19883
حدیث نمبر: 19883 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَتْ امْرَأَةٌ أَسَرَهَا الْعَدُوُّ، وَكَانُوا يُرِيحُونَ إِبِلَهُمْ عِشَاءً، فَأَتَتْ الْإِبِلَ تُرِيدُ مِنْهَا بَعِيرًا تَرْكَبُهُ، فَكُلَّمَا دَنَتْ مِنْ بَعِيرٍ رَغَا، فَتَرَكَتْهُ حَتَّى أَتَتْ نَاقَةً مِنْهَا، فَلَمْ تَرْغُ فَرَكِبَتْ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَجَتْ فَقَدِمَتْ الْمَدِينَةَ، فَلَمَّا رَآهَا النَّاسُ , قَالُوا: نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءُ، قَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَهَا إِنْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْجَانِي عَلَيْهَا , قَالَ: " بِئْسَمَا جَزَيْتِيهَا، لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّه" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان عورت کو دشمن نے قید کرلیا، قبل ازیں ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی بھی چرا لی تھی، ایک دن اس عورت نے لوگوں کو غافل دیکھا تو چپکے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی پر سوار ہوئی اور یہ منت مان لی کہ اگر صحیح سلامت مدینہ پہنچ گئی تو اسی اونٹنی کو ذبح کر دے گی، بہرحال! وہ مدینہ منورہ پہنچ گئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی کو ذبح کرنا چاہا لیکن لوگوں نے اسے اس سے منع کیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے اسے برا بدلہ دیا، پھر فرمایا ابن آدم جس چیز کا مالک نہ ہو، اس میں نذر نہیں ہوتی اور نہ ہی اللہ کی معصیت میں منت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19883]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1641
الحكم: إسناده صحيح، م: 1641
← پچھلی حدیث (19882) باب پر واپس اگلی حدیث (19884) →