بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1986
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1986
حدیث نمبر: 1986 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ، وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ لَا يُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ، فَسَارَ عَلَى هِينَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا، ثُمَّ أَفَاضَ الْغَدَ، وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ،" فَمَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، اونٹنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر گھومتی رہی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روانگی سے قبل عرفات میں اپنے ہاتھوں کو بلند کئے کھڑے ہوئے تھے لیکن ہاتھوں کی بلندی سر سے تجاوز نہیں کرتی تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے روانہ ہو گئے تو اطمینان اور وقار سے چلتے ہوئے مزدلفہ پہنچے، اور جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سوار تھے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1986]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
← پچھلی حدیث (1985) باب پر واپس اگلی حدیث (1987) →