عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، مَطَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَوْضِ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ لَهُ جُلَسَاءُ عُبَيْدِ اللَّهِ: " إِنَّمَا أَرْسَلَ إِلَيْكَ الْأَمِيرُ لِيَسْأَلَكَ عَنِ الْحَوْضِ، فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ، فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ، فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کوثر کے ثبوت میں شک تھا، اس نے حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ آئے تو عبیداللہ کے ہم نشینوں نے ان سے کہا کہ امیر نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ آپ سے حوض کوثر کے متعلق دریافت کرے، کیا آپ نے اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے، اب جو اس کی تکذیب کرتا ہے، اللہ اسے اس حوض سے سیراب نہ کرے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19814]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل مطر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل مطر