أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، مُجَاهِدٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ , الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ وَكِيعٌ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا , يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ:" إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ، قَالَ وَكِيعٌ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ"، ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا، قَالَ:" لَعَلَّهُمَا أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا"، قَالَ وَكِيعٌ:" تَيْبَسَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر دو قبروں پر ہوا، فرمایا کہ ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے، اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، ایک تو پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا“، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ٹہنی لے کر اسے چیر کر دو حصوں میں تقسیم کیا اور ہر قبر پر ایک ایک حصہ گاڑھ دیا، لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: ”شاید ان کے خشک ہونے تک ان کے عذاب میں تخفیف رہے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1980]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 216، م: 292.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 216، م: 292.