حَسَنُ بْنُ مُوسَى يَعْنِي الْأَشْيَبَ ، سُكَيْنُ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَزِيدُ الْأَعْرَجُ ، حَمْزَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَخْفَرٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى يَعْنِي الْأَشْيَبَ ، قال: حَدَّثَنَا سُكَيْنُ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قال: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ الْأَعْرَجُ قال: عَبْد اللَّهِ: يَعْنِي أَظُنُّهُ الشَّنِّيَّ، قال: حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَخْفَرٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ ، عَن أَبِي مُوسَى ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، قَالَ: فَعَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتبَهْتُ بَعْضَ اللَّيْلِ إِلَى مُنَاخِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْلُبُهُ، فَلَمْ أَجِدْهُ، قَالَ: فَخَرَجْتُ بَارِزًا أَطْلُبُهُ، وَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْلُبُ مَا أَطْلُبُ، قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ، إِذْ اتَّجَهَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْتَ بِأَرْضِ حَرْبٍ، وَلَا نَأْمَنُ عَلَيْكَ، فَلَوْلَا إِذْ بَدَتْ لَكَ الْحَاجَةُ، قُلْتَ لِبَعْضِ أَصْحَابِكَ، فَقَامَ مَعَكَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي سَمِعْتُ هَزِيزًا كَهَزِيزِ الرَّحَى أَوْ: حَنِينًا كَحَنِينِ النَّحْلِ وَأَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَخَيَّرَنِي بِأَنْ يَدْخُلَ ثُلْثَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ الْشَفَاعَةَ لَهُمْ، فَاخْتَرْتُ لَهُمْ شَفَاعَتِي، وَعَلِمْتُ أَنَّهَا أَوْسَعُ لَهُمْ، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ شَطْرَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ شَفَاعَتِي لَهُمْ، فَاخْتَرْتُ شَفَاعَتِي لَهُمْ، وَعَلِمْتُ أَنَّهَا أَوْسَعُ لَهُمْ"، قَالَ: فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، قَالَ: فَدَعَا لَهُمَا، ثُمَّ إِنَّهُمَا نَبَّهَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْبَرَاهُمْ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَعَلُوا يَأْتُونَهُ، وَيَقُولُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، فَيَدْعُوَ لَهُمْ، قَالَ: فَلَمَّا أَضَبَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ، وَكَثُرُوا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا لِمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ جہاد کے کسی سفر پر روانہ ہوئے رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پڑاؤ کیا ایک مرتبہ میں رات کو اٹھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی خواب گاہ میں نہ پایا مجھے طرح طرح کے خدشات اور وساوس پیش آنے لگے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلاش میں نکلا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی ان کی بھی وہی کیفیت تھی جو میری تھی اسی دوران سامنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آتے ہوئے دکھائی دیئے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ جنگ کے علاقے میں ہیں ہمیں آپ کی جان کا خطرہ ہے جب آپ کو کوئی ضرورت تھی تو آپ اپنے ساتھ کسی کو کیوں نہیں لے کر گئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے ایسی آواز سنی جو چکی کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے یا جیسے مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا تھا اور اس نے مجھے ان دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ میری نصف امت جنت میں داخل ہوجائے یا مجھے شفاعت کا اختیار مل جائے تو میں نے شفاعت والے پہلو کو ترجیح دے لی دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ آپ کی شفاعت میں ہمیں بھی شامل کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لئے دعاء کردی بعد میں ان دونوں دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو بھی اس کے متعلق بتایا تو وہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آنے لگے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ ہمیں بھی آپ کی شفاعت میں شامل کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے لئے دعاء فرما دیتے جب یہ سلسلہ زیادہ ہی بڑھ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرما دیا کہ ہر وہ شخص بھی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو میری شفاعت میں شامل ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19724]
حکم دارالسلام
قوله صلى الله عليه و آله وسلم فى الشفاعة: إنها لمن مات ....إلا الله صحيح لغيره، وقوله : خيرني .... فاخترت شفاعتي لهم ، حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حمزة بن علي
الحكم: قوله ﷺ فى الشفاعة: إنها لمن مات ....إلا الله صحيح لغيره، وقوله : خيرني .... فاخترت شفاعتي لهم ، حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حمزة بن علي