يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو لَيْلَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، مَزِيدَةَ بْنِ جَابِرٍ ، أُمِّي ، أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو لَيْلَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَن مَزِيدَةَ بْنِ جَابِرٍ ، قال: قَالَتْ أُمِّي : كُنْتُ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَعَلَيْنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، قَالَ: فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَوْمِ عَاشُورَاءَ ، فَصُومُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مزیدہ بن جابر اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ایک مرتبہ میں کوفہ کی مسجد میں تھی، اس وقت ہمارے امیر حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس محرم کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے لہٰذا تم بھی روزہ رکھو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19721]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن ميسرة وجهالة أم مزيدة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن ميسرة وجهالة أم مزيدة