بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 19705
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 19705
حدیث نمبر: 19705 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، لَيْثٍ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَن لَيْثٍ ، عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَن أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةٌ، فَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، أَوْ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا، فَقُومُوا لَهَا، فَإِنَّهُ لَيْسَ لَهَا نَقُومُ، وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ" قَالَ لَيْثٌ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُجَاهِدٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، نَنْتَظِرُ جِنَازَةً، إِذْ مَرَّتْ بِنَا أُخْرَى، فَقُمْنَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا يُقِيمُكُمْ؟ فَقُلْنَا: هَذَا مَا تَأْتُونَا بِهِ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ، قُلْتُ: زَعَمَ أَبُو مُوسَى: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةٌ، إِنْ كَانَ مُسْلِمًا، أَوْ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا، فَقُومُوا لَهَا، فَإِنَّهُ لَيْسَ لَهَا نَقُومُ، وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ"، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ غَيْرَ مَرَّةٍ، بِرَجُلٍ مِنْ اليهود، وَكَانُوا أَهْلَ كِتَابٍ، وَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِهِمْ، فَإِذَا نُهِيَ انْتَهَى، فَمَا عَادَ لَهَا بَعْدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تمہارے سامنے سے کی یہودی، عیسائی یا مسلمان کا جنازہ گذرے تو تم کھڑے ہوجایا کرو، کیونکہ تم جنازے کی خاطر کھڑے نہیں ہوگے، ان فرشتوں کی وجہ سے کھڑے ہوگے جو جنازے کے ساتھ ہوتے ہیں۔ عبداللہ بن سخبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے کسی جنازے کا انتظار کر رہے تھے کہ ایک دوسرا جنازہ ہمارے پاس سے گذراہم لوگ کھڑے ہوگئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تم لوگ کیوں کھڑے ہوگئے؟ ہم نے کہا آپ لوگوں ہی نے تو ہمیں یہ بات بتائی ہے انہوں نے فرمایا وہ کیا؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے سامنے سے کی یہودی، عیسائی یا مسلمان کا جنازہ گذرے تو تم کھڑے ہوجایا کرو، کیونکہ ہم اس کے لئے کھڑے نہیں ہوگے، اس کے ساتھ موجود فرشتوں کی خاطر کھڑے ہوں گے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طرح صرف ایک مرتبہ یہودی کے ساتھ کیا تھا یہ لوگ اہل کتاب تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی مشابہت اختیار کرتے تھے جب اس کی ممانعت ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رک گئے اور دوبارہ اس طرح نہیں کیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19705]
حکم دارالسلام
هذا الحديث إنما هو حديثان : أولهما: حديث أبى موسى، وهو صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ليث ضعيف. وثانيهما : حديث على ، وهو صحيح دون قوله : وكانوا أهل كتاب، وكان يتشبه بهما
الحكم: هذا الحديث إنما هو حديثان : أولهما: حديث أبى موسى، وهو صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ليث ضعيف. وثانيهما : حديث على ، وهو صحيح دون قوله : وكانوا أهل كتاب، وكان يتشبه بهما
← پچھلی حدیث (19704) باب پر واپس اگلی حدیث (19706) →