بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 19680
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 19680
حدیث نمبر: 19680 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، جَعْفَرٌ ، أَبَا عِمْرَانَ الْجَوْنِيَّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، الْمَعْنَى، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ أَبَا عِمْرَانَ الْجَوْنِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ" ، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ رَثُّ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُوسَى، أَأَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ السَّلَامَ، ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ، ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ إِلَى الْعَدُوِّ، فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکربن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دشمن کے لشکر کے سامنے میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے میں ہیں یہ سن کر ایک پراگندہ ہیئت آدمی لوگوں میں سے کھڑا ہو اور کہنے لگا اے ابوموسیٰ! کیا یہ حدیث آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خود سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس پہنچا اور انہیں آخری مرتبہ سلام کیا اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینکی اور تلوار لے کر چل پڑا اور اس شدت کے ساتھ لڑا کہ بالآخر شہید ہوگیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19680]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1902
الحكم: إسناده صحيح، م: 1902
← پچھلی حدیث (19679) باب پر واپس اگلی حدیث (19681) →