يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، جَدِّهِ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَن سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَن جَدِّهِ ، عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ السَّائِلُ أَوْ ذُو الْحَاجَةِ، قَالَ: " اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ مَا شَاءَ" . وَقَالَ: " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا" . وَقَالَ: " الْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُؤَدِّي مَا أُمِرَ بِهِ طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ، أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب کوئی سائل آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں فرماتے تم اس کی سفارش کرو تمہیں اجر ملے گا اور اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان پر وہی فیصلہ جاری فرمائے گا جو اسے محبوب ہوگا۔ اور فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہوتا ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔ اور امانت دارخزانچی وہ ہوتا ہے کہ اسے جس چیز کا حکم دیا جائے وہ اسے مکمل، پورا اور دل کی خوشی کے ساتھ ادا کردے تاکہ صدقہ کرنے والوں نے جسے دینے کا حکم دیا ہے اس تک وہ چیز پہنچ جائے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19667]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1432
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1432