بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1966
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1966
حدیث نمبر: 1966 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْحَجَّاجُ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فِي سَرِيَّةٍ، فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، قَالَ: فَقَدَّمَ أَصْحَابَهُ، وَقَالَ: أَتَخَلَّفُ فَأُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ، قَالَ: فَلَمَّا رَآهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِكَ؟" , قَالَ: فَقَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ أَلْحَقَهُمْ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ مَا أَدْرَكْتَ غَدْوَتَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو کسی سریہ میں بھیجا، اتفاق سے وہ جمعہ کا دن تھا، انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ سوچ کر آگے روانہ کر دیا کہ میں پیچھے رہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ لوں، پھر ان کے ساتھ جا ملوں گا، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: آپ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح روانہ ہونے سے کس چیز نے روکا؟ عرض کیا کہ میں نے سوچا کہ آپ کے ساتھ جمعہ پڑھ کر ان سے جاملوں گا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ زمین کے سارے خزانے بھی خرچ کر دیں تو آپ ان کی اس صبح کو حاصل نہیں کر سکیں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1966]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فيه عنعنة الحجاج، والحكم لم يسمعه من مقسم، إنما هو كتاب.
الحكم: إسناده ضعيف، فيه عنعنة الحجاج، والحكم لم يسمعه من مقسم، إنما هو كتاب.
← پچھلی حدیث (1965) باب پر واپس اگلی حدیث (1967) →