عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنُ ، أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ كَانَ لَهُ أَخٌ يُقَالُ لَهُ: أَبُو رُهْمٍ، وَكَانَ يَتَسَرَّعُ فِي الْفِتْنَةِ، وَكَانَ الْأَشْعَرِيُّ يَكْرَهُ الْفِتْنَةَ، فَقَالَ لَهُ: لَوْلَا مَا أَبْلَغْتَ إِلَيَّ، مَا حَدَّثْتُكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا بِسَيْفَيْهِمَا، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، إِلَّا دَخَلَا جَمِيعًا النَّارَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خواجہ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا ایک بھائی تھا جو بڑھ چڑھ کر فتنے کے کاموں میں حصہ لیتا تھا وہ اسے منع کرتے لیکن وہ باز نہ آتاوہ اس سے فرماتے اگر میں یہ سمجھتا کہ تمہیں سی نصیحت بھی کافی ہوسکتی ہے جو میری رائے میں اس سے کم ہوتی (تب بھی میں تمہیں نصیحت کرتا) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19609]
حکم دارالسلام
صحيح الغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من أبى موسى
الحكم: صحيح الغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من أبى موسى