بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 19606
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 19606
حدیث نمبر: 19606 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ الْعَزْرَمِيَّ ، أَبِي عَلِيٍّ ، أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ الْعَزْرَمِيَّ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي كَاهِلٍ، قَالَ: خَطَبَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ، فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَزْنٍ، وَقَيْسُ بْنُ المُضَارِبِ، فَقَالَا: وَاللَّهِ لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ، أَوْ: لَنَأْتِيَنَّ عُمَرَ، مَأْذُونٌ لَنَا، أَوْ غَيْرُ مَأْذُونٍ، قَالَ: بَلْ أَخْرُجُ مِمَّا قُلْتُ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ، فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ"، فَقَالَ لَهُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ: وَكَيْفَ نَتَّقِيهِ، وَهُوَ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ، وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا لوگو! اس شرک سے بچو کیونکہ اس کی آہٹ چیونٹی کی آہٹ سے بھی ہلکی ہوتی ہے یہ سن کر عبداللہ بن حزن اور قیس بن مضارب کھڑے ہو کر کہنے لگے اللہ کی قسم! یا تو آپ اپنی بات کا حوالہ دیں گے یا پھر ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں گے خواہ ہمیں اس کی اجازت ملے یا نہیں انہوں نے کہا کہ میں تمہیں اس کا حوالہ دیتا ہوں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا لوگو! اس شرک سے بچو کیونکہ اس کی آہٹ چیونٹی کی آہٹ سے بھی ہلکی ہوتی ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اس کی آہٹ چیونٹی کی آہٹ سے بھی ہلکی ہوتی ہے تو پھر ہم اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہتے رہا کرو اے اللہ! ہم اس بات سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں کہ کسی چیز کو جان بوجھ کر آپ کے ساتھ شریک ٹھہرائیں اور اس چیز سے معافی مانگتے ہیں جسے ہم جانتے نہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19606]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى على الكاهلي
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى على الكاهلي
← پچھلی حدیث (19605) باب پر واپس اگلی حدیث (19607) →