وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَاصِمٍ يَعْنِي الْأَحْوَلَ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي الْأَحْوَلَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَشْرَفْنَا عَلَى وَادٍ، فَذَكَرَ مِنْ هَوْلِهِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُكَبِّرُونَ، وَيُهَلِّلُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ"، وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّهُ مَعَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے ہم ایک وادی پر چڑھے، انہوں نے اس کی ہولناکی بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ لوگ تکبیر و تہلیل کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگو! اپنے ساتھ نرمی کرو، کیونکہ لوگوں نے آوازیں بلند کر رکھی تھیں، لوگو! تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے ہو وہ ہر لمحہ تمہارے ساتھ ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19520]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2992، م: 2704