وَكِيعٌ ، يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ . وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا يَونُسَ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ، فَقَدْ أَذِنَتْ، وَإِنْ أَبَتْ، لَمْ تُكْرَهْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کی اجازت لی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے تو گویا اس نے اجازت دے دی اور اگر وہ انکار کردے تو اسے اس رشتے پر مجبور نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19516]
حکم دارالسلام
صحيح الغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح الغيره، وهذا إسناد حسن