حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ، أَحَدُهُمَا مِنْ أَهْلِ حَضْرَمَوْتَ، قَالَ: فَجَعَلَ يَمِينَ أَحَدِهِمَا، قَالَ: فَضَجَّ الْآخَرُ، وَقَالَ: إِنَّهُ إِذًا يَذْهَبُ بِأَرْضِي، فَقَالَ: " إِنْ هُوَ اقْتَطَعَهَا بِيَمِينِهِ ظُلْمًا، كَانَ مِمَّنْ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِ، وَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ" ، قَالَ: وَوَرِعَ الْآخَرُ، فَرَدَّهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دو آدمی ایک زمین کا مقدمہ لے کر آئے جن میں سے ایک تعلق حضرموت سے تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوسرے کو قسم اٹھانے کا کہہ دیا دوسرا فریق یہ سن کر چیخ پڑا اور کہنے لگا کہ اس طرح تو یہ میری زمین لے جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ قسم کھاکر ظلماً اسے اپنی ملکیت میں لے لیتا ہے تو یہ ان لوگوں میں سے ہوگا جنہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دیکھے گا اور نہ ہی اس کا تزکیہ کرے گا اور اس کے لئے دردناک عذاب ہوگا پھر دوسرے شخص کو تقویٰ کی ترغیب دی تو اس نے وہ زمین واپس کردی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19514]
الحكم: إسناده صحيح