عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، أَخِيهِ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مَعِي مِنْ قَوْمِي، قَالَ: فَأَتَيْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَا، وَتَكَلَّمَا، فَجَعَلَا يُعَرِّضَانِ بِالْعَمَلِ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ: رُئِيَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدِي مَنْ يَطْلُبُهُ، فَعَلَيْكُمَا بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ فَمَا اسْتَعَانَ بِهِمَا عَلَى شَيْءٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے ساتھ میری قوم کے دو آدمی بھی آئے تھے ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے دوران گفتگو کوئی عہدہ طلب کیا جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور فرمایا میرے نزدیک تم میں سب سے بڑا خائن وہ ہے جو کسی عہدے کا طلب گار ہوتا ہے لہٰذا تم دونوں تقویٰ کو لازم پکڑو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کوئی خدمت نہیں لی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19508]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام أخي إسماعيل بن أبى خالد
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام أخي إسماعيل بن أبى خالد