يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ قَوْمٍ يَكُونُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ مَنْ يَعْمَلُ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَعَزُّ مِنْهُ وَأَمْنَعُ لَمْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ إِلَّا أَصَابَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ بِعِقَابٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو قوم بھی گناہ کرتی ہے اور ان میں کوئی باعزت اور باوجاہت آدمی ہوتا ہے اگر وہ انہیں روکتا نہیں ہے تو اللہ کا عذاب ان سب پر آجاتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19216]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، وقد خولف
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، وقد خولف