بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 19148
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 19148
حدیث نمبر: 19148 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، إِيَادٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، حَدَّثَنَا إِيَادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ نَابِي يَعْنِي نَائِي وَنَحْنُ فِي الصَّفِّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ فِي الصَّفِّ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَرَفَعَ الْمُسْلِمُونَ رُؤُوسَهُمْ، وَاسْتَنْكَرُوا الرَّجُلَ، فَقَالُوا: مَنْ الَّذِي يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ هَذَا الْعَالِي الصَّوْتَ؟" قَالَ: هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ كَلَامَكَ يَصْعَدُ فِي السَّمَاءِ حَتَّى فُتِحَ بَابٌ مِنْهَا، فَدَخَلَ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صف میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک ' آدمی آکر صف میں شامل ہوگیا اور کہنے لگا " اللہ اکبر کبیرا، و سبحان اللہ بکرۃ واصیلا " اس پر مسلمان سر اٹھانے اور اس شخص کو ناپسند کرنے لگے اور دل میں سوچنے لگے کہ یہ کون آدمی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کررہا ہے؟ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا یہ بلند آواز والا کون ہے؟ بتایا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہ یہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بخدا! میں نے دیکھا کہ تمہارا کلام آسمان پر چڑھ گیا یہاں تک کہ ایک دروازہ کھل گیا اور وہ اس میں داخل ہوگیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19148]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن سعيد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن سعيد
← پچھلی حدیث (19147) باب پر واپس اگلی حدیث (19149) →