بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 19089
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 19089
حدیث نمبر: 19089 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَهُوَ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بِسَكْرَانَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ أَنْ يَضْرِبُوهُ بِمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ، وَحَثَي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے غزوہ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کے درمیان سے راستہ بنا کر گذرتے جارہے ہیں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ٹھکانے کا پتہ پوچھتے جارہے ہیں تھوڑی دیر میں ایک آدمی کو نشے کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لوگ لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھ آنے والوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ اسی سے اس شخص کو ماریں۔ چناچہ کسی نے اسے لاٹھی سے مارا اور کسی نے کوڑے سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر مٹی پھینکی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19089]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، الزهري لم يسمع من عبدالرحمن، وتصريح الزهري بسماعه من عبدالرحمن خطأ ، أخطأ فيه أسامة بن زيد
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، الزهري لم يسمع من عبدالرحمن، وتصريح الزهري بسماعه من عبدالرحمن خطأ ، أخطأ فيه أسامة بن زيد
← پچھلی حدیث (19088) باب پر واپس اگلی حدیث (19090) →