سُفْيَانَ ، مَعْمَرًا ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ
قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ وَأَنَا شَاهِدٌ، سَمِعْتُ مَعْمَرًا يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، قَالَ: جُرِحَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْ رَحْلِهِ، قُلْتُ وَأَنَا غُلَامٌ: " مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدٍ" فَأَتَاهُ وَهُوَ مَجْرُوحٌ، فَجَلَسَ عِنْدَهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ زخمی ہوگئے تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسلمانوں کے درمیان " جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے چلتے جارہے ہیں اور فرماتے جارہے ہیں کہ خالد بن ولید کے خیمے کا پتہ کون بتائے گا؟ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس پہنچے اور ان کے قریب جا کر بیٹھ گئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19088]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع من عبدالرحمن بن أزهر
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع من عبدالرحمن بن أزهر