بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 18927
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 18927
حدیث نمبر: 18927 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ، فَقَسَمَهَا فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا مِسْوَرُ، اذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لِي أَنَّهُ قَسَمَ أَقْبِيَةً، فَانْطَلَقْنَا، فَقَالَ: ادْخُلْ، فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَخَلْتُ فَدَعَوْتُهُ إِلَيْهِ، فَخَرَجَ إِلَيَّ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، قَالَ: " خَبَأْتُ لَكَ هَذَا يَا مَخْرَمَةُ" قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: رَضِيَ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے کچھ قمیضیں آئیں جن میں سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ سب صحابہ رضی اللہ عنہ کے درمیان تقسیم کردیں، میرے والد مخرمہ نے کہا کہ اے مسور! ہمارے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلو مجھے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کچھ ق بائیں تقسیم کی ہیں چناچہ ہم روانہ ہوگئے وہاں پہنچ کر انہوں نے مجھ سے کہا کہ اندر جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلاؤ میں اندر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلا کرلے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے تو ان میں کی ایک قمیض پہن رکھی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مخرمہ! یہ میں نے تمہارے لئے رکھی تھی، انہوں نے اسے دیکھ کر اپنی رضامندی کا اظہار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ انہیں دے دی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18927]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2599، م: 1058
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2599، م: 1058
← پچھلی حدیث (18926) باب پر واپس اگلی حدیث (18928) →