هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ:" إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي فِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلاَ آذَنُ لَهُمْ"، ثُمَّ قَالَ:" لاَ آذَنُ" ثُمَّ قَالَ: " لاَ آذَنُ، فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي، يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برسر منبریہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بنوہشام بن مغیرہ مجھ سے اس بات کی اجازت مانگ رہے ہیں کہ اپنی بیٹی کا نکاح علی سے کردیں میں اس کی اجازت کبھی نہیں دوں گا تین مرتبہ فرمایا میری بیٹی میرے جگر کا ٹکڑا ہے جو چیز اسے پریشان کرتی ہے وہ مجھے بھی پریشان کرتی ہے اور جو اسے تکلیف پہنچاتی ہے وہ مجھے بھی تکلیف پہنچاتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18926]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5320، م: 2449
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5320، م: 2449