بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1883
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1883
حدیث نمبر: 1883 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي رِجَالٌ مِنَ الأَنْصَارِ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، إِذْ رُمِيَ بِنَجْمٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ، قَالَ:" إِذَا قَضَى رَبُّنَا أَمْرًا سَبَّحَهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَيَقُولُونَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟: فَيَقُولُونَ: الْحَقَّ، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، فَيَقُولُونَ: كَذَا وَكَذَا، فَيُخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، قَالَ: وَيَأْتِي الشَّيَاطِينُ، فَيَسْتَمِعُونَ الْخَبَرَ، فَيَقْذِفُونَ بِهِ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ، وَيَرْمُونَ بِهِ إِلَيْهِمْ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ، وَلَكِنَّهُمْ يَزِيدُونَ فِيهِ، وَيَقْرِفُونَ، وَيَنْقُصُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ تشریف فرما تھے، اتنی دیر میں ایک بڑا ستارہ ٹوٹا اور روشن ہوگیا . . . . پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمارا رب کسی کام کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو حاملین عرش جو فرشتے ہیں وہ تسبیح کرنے لگتے ہیں، ان کی تسبیح سن کر قریب کے آسمان والے بھی تسبیح کرنے لگتے ہیں، حتی کہ ہوتے ہوتے یہ سلسلہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتا ہے، پھر اس آسمان والے فرشتے - جو حاملین عرش کے قریب ہوتے ہیں - ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ وہ انہیں بتا دیتے ہیں، اس طرح ہر آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو بتا دیتے ہیں، یہاں تک کہ یہ خبر آسمان دنیا کے فرشتوں تک پہنچتی ہے، وہاں سے جنات کوئی ایک آدھ بات اچک لیتے ہیں، ان پر یہ ستارے پھینکے جاتے ہیں، اب جو بات وہ صحیح صحیح بتا دیتے ہیں وہ تو سچ ثابت ہوجاتی ہے لیکن وہ اکثر ان میں اپنی طرف سے اضافہ کر دیتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1883]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 2229. فى سنده محمد بن مصعب، وفيه كلام من جهة إلا أن حديثه عن الأوزاعي مقارب، ثم هو متابع.
الحكم: صحيح، م: 2229. فى سنده محمد بن مصعب، وفيه كلام من جهة إلا أن حديثه عن الأوزاعي مقارب، ثم هو متابع.
← پچھلی حدیث (1882) باب پر واپس اگلی حدیث (1884) →