سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، النعمان بن بشير
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أخبراه، أنهما سمعا النعمان بن بشير ، يَقُولُ:" نَحَلَنِي أَبِي غُلَامًا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُشْهِدَهُ، فَقَالَ: " أَكُلَّ وَلَدِكَ قَدْ نَحَلْتَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَارْدُدْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد انہیں کوئی تحفہ دیا پھر میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں اس پر گواہ بننے کے لئے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی دے دیا ہے، جیسے اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے واپس لے لو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18382]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1623
الحكم: إسناده صحيح، م: 1623