بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 18182
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 18182
حدیث نمبر: 18182 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ الثَّقَفِيِّ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَسُئِلَ: هَلْ أَمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَزَادَهُ عِنْدِي تَصْدِيقًا الَّذِي قَرَّبَ بِهِ الْحَدِيثَ. قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ السَّحَرِ، ضَرَبَ عَقِبَ رَاحِلَتِي، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ حَاجَةً، فَعَدَلْتُ مَعَهُ، فَانْطَلَقْنَا، حَتَّى بَرَزْنَا عَنِ النَّاسِ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ، فَتَغَيَّبَ عَنِّي حَتَّى مَا أَرَاهُ، فَمَكَثَ طَوِيلًا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ:" حَاجَتَكَ يَا مُغِيرَةُ؟". قُلْتُ مَا لِي حَاجَةٌ، فَقَالَ:" هَلْ مَعَكَ مَاءٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، فَقُمْتُ إِلَى قِرْبَةٍ، أَوْ قَالَ: سَطِيحَةٍ مُعَلَّقَةٍ فِي آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، " فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ، فَأَحْسَنَ غَسْلَهُمَا، قَالَ: وَأَشُكُّ أَقَالَ: دَلَّكَهُمَا بِتُرَابٍ أَمْ لَا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ يَدِهِ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمِّ، فَضَاقَتْ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِهَا إِخْرَاجًا، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، قَالَ: فَيَجِيءُ فِي الْحَدِيثِ غَسْلُ الْوَجْهِ مَرَّتَيْنِ، فَلَا أَدْرِي أَهَكَذَا كَانَ أَمْ لَا، ثُمَّ مَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ، وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، ثُمَّ رَكِبْنَا فَأَدْرَكْنَا النَّاسَ، وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، وَهُمْ فِي الثَّانِيَةِ، فَذَهَبْتُ أُوذِنُهُ، فَنَهَانِي، فَصَلَّيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي أَدْرَكْنَا، وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھ کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ اس امت میں کوئی اور بھی ایسا شخص ہوا ہے جس کی امامت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھی ہو؟ انہوں نے جواب دیا ہاں! ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے خیمے کا دروازہ بجایا میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکل پڑا یہاں تک کہ ہم لوگ چلتے چلتے لوگوں سے دور چلے گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آئے اور فرمایا مغیرہ! تم بھی اپنی ضرورت پوری کرلو میں نے عرض کیا کہ مجھے اس وقت حاجت نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! اور یہ کہہ کر میں وہ مشکیزہ لانے چلا گیا جو کجاوے کے پچھلے حصے میں لٹکا ہوا تھا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پانی لے حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18182]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 182، م: 274
الحكم: إسناده صحيح، خ: 182، م: 274
← پچھلی حدیث (18181) باب پر واپس اگلی حدیث (18183) →