إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسُ ، زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِيهِ ، الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ: " الرَّاكِبُ يَسِيرُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ، وَالْمَاشِي يَمْشِي خَلْفَهَا، وَأَمَامَهَا، وَيَمِينَهَا، وَشِمَالَهَا، قَرِيبًا، وَالسِّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ، يُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْعَافِيَةِ وَالرَّحْمَةِ" . قَالَ يُونُسُ: وَأَهْلُ زِيَادٍ يَذْكُرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا أَنَا فَلَا أَحْفَظُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوار آدمی جنازے کے پیچھے چلے پیدل چلنے والے کی مرضی ہے (آگے چلے یا پیچھے دائیں جانب چلے یا بائیں جانب) اور نابالغ بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، جس میں اس کے والدین کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعاء کی جائے گی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18181]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، والراجح وقفه
الحكم: حديث صحيح، والراجح وقفه