قَالَ: يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ. قَالَ: قَالَ: يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا، كَانَ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْهُ عَظْمًا مِنْهُ، وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ، كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْهُمَا عَظْمًا مِنْهُ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
انہوں نے پھر عرض کیا کہ اے کعب بن مرہ! ہمیں احتیاط سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرتا ہے وہ اس کے لئے جہنم سے رہائی کا ذریعہ بن جاتا ہے اور غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کا ہر عضو آزاد کردیا جاتا ہے اور جو شخص دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرتا ہے، وہ دونوں جہنم سے اس کی رہائی کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور ان کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرانے والے کا ہر عضو جہنم سے آزاد کردیا جاتا ہے۔ اور شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو، اس کے بالوں کی وہ سفیدی قیامت کے دن روشنی کا سبب ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18064]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: ومن أعتق امرأتين مسلمتين…..، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سالم لم يسمع من شرحبيل
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: ومن أعتق امرأتين مسلمتين…..، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سالم لم يسمع من شرحبيل