يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ ،، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُمْ أَسْلَمُوا وَكَانَ فِيمَنْ أَسْلَمَ، فَبَعَثُوا وَفْدَهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَتِهِمْ وَإِسْلَامِهِمْ، فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ مَنْ قَدْ عَرَفْتَ، وَجِئْنَا مِنْ حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ، وَأَسْلَمْنَا، فَمَنْ وَلِيُّنَا؟ قَالَ: " اللَّهُ وَرَسُولُهُ" قَالُوا: حَسْبُنَا رَضِينَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے قبیلے کے لوگ مسلمان ہوگئے، ان میں وہ خود بھی شامل تھے، انہوں نے اپنی بیعت اور قبول اسلام کی اطلاع دینے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی بیعت و اسلام کو قبول فرما لیا، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ جانتے ہیں کہ ہمارا تعلق کس قبیلے سے ہے اور ہم جہاں سے آئے ہیں وہ بھی آپ کے علم میں ہے، اب ہم مسلمان ہوگئے ہیں تو ہمارا ولی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کہنے لگے کہ ہمارے لئے یہ کافی ہے اور ہم اس پر راضی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18037]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين الأوزاعي والديلمي، والواسطة بينهما راو ثقة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين الأوزاعي والديلمي، والواسطة بينهما راو ثقة