الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، مِنَ الْحَكَمِ ، بَقِيَّةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْيَحْصَبِيُّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنَ الْحَكَمِ قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْيَحْصَبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ الْبَابَ يَسْتَأْذِنُ، لَمْ يَسْتَقْبِلْهُ، يَقُولُ: يَمْشِي مَعَ الْحَائِطِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنَ لَهُ، أَوْ يَنْصَرِفَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی کے گھر تشریف لے جاتے تو دیوار کی آڑ میں کھڑے ہوتے، دروازے کے بالکل سامنے کھڑے نہیں ہوتے تھے پھر اجازت طلب کرتے، اگر اجازت مل جاتی تو اندر چلے جاتے ورنہ واپس چلے جاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17694]
الحكم: إسناده حسن