أَبُو سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ أَبُو مُصْعَبٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ أَبُو مُصْعَبٍ الْمَعَافِرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفُضِّلَتْ سُورَةُ الْحَجِّ عَلَى سَائِرِ الْقُرْآنِ بِسَجْدَتَيْنِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، فَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا، فَلَا يَقْرَأْهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا پورے قرآن میں سورت حج ہی کی یہ فضیلت ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اور جو شخص یہ دونوں سجدے نہیں کرتا گویا اس نے یہ سورت پڑھی ہی نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17364]
حکم دارالسلام
حسن بطرقه وشواهده دون قوله: «فمن لم يسجدهما فلا يقرأهما» ، وهذا الإسناد ضعيف، حديث مشرح بن هاعان عن عقبة خاصة مقال
الحكم: حسن بطرقه وشواهده دون قوله: «فمن لم يسجدهما فلا يقرأهما» ، وهذا الإسناد ضعيف، حديث مشرح بن هاعان عن عقبة خاصة مقال