عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مِشْرَحٌ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، قُتَيْبَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ، إِلَّا الْمُرَابِطَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ يُجْرَى لَهُ أَجْرُ عَمَلِهِ حَتَّى يُبْعَثَ" ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ فِيهِ:" وَيُؤَمَّنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر میت کے نامہ عمل پر مہر لگا دی جاتی ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کے راستہ میں اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے کہ اس کے نامہ اعمال میں دوبارہ زندہ ہونے تک ثواب لکھا جاتا رہے گا۔ گزشتہ حدیث قتیبہ سے بھی مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اسے قبر کے امتحان سے محفوظ رکھا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17359]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن