أَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَخْتَصِمُ الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ مَاتُوا مِنَ الطَّاعُونِ، فَيَقُولُ الشُّهَدَاءُ: إِخْوَانُنَا قُتِلُوا، وَيَقُولُ الْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ: إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ كَمَا مِتْنَا، فَيَقْضِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَهُمْ: أَنْ انْظُرُوا إِلَى جِرَاحَاتِ الْمَطَّعُونِينَ، فَإِنْ أَشْبَهَتْ جِرَاحَاتِ الشُّهَدَاءِ، فَهُمْ مِنْهُمْ، فَيَنْظُرُونَ إِلَى جِرَاحِ الْمَطَّعُونِينَ، فَإِذَا هي قَدْ أَشْبَهَتْ، فَيُلْحَقُونَ مَعَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”طاعون کی وباء سے مرنے والوں کے متعلق پروردگار عالم کے سامنے شہداء اور طبعی موت مرنے والوں کے درمیان جھگڑا ہو گا۔، شہدا کہیں گے کہ یہ ہمارے بھائی ہیں، ہماری طرح شہید ہوئے ہیں، اور طبعی موت مرنے والے کہیں گے کہ یہ ہمارے بھائی ہیں اور ہماری طرح اپنے بستروں پر شہید ہوئے ہیں، پروردگار فرمائے گا کہ ان کے زخم دیکھو، اگر ان کے زخم شہداء کے زخموں کی طرح ہیں تو یہ شہداء میں شمار ہو کر ان کے ساتھ ہوں گے۔ جب دیکھا جائے گا تو ان کے زخم شہداء کے زخموں کے مشابہ ہوں گے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17164]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن أبى بلال
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن أبى بلال