الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ ، يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ ، شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ ، وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ ، وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ حَاضِرٌ يصدقه، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ فِيكُمْ غَرِيبٌ؟" يَعْنِي أَهْلَ الْكِتَابِ، فَقُلْنَا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَمَرَ بِغَلْقِ الْبَابِ، وَقَالَ:" ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ، وَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، فَرَفَعْنَا أَيْدِيَنَا سَاعَةً، ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، ثُمَّ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ، اللَّهُمَّ بَعَثْتَنِي بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ، وَأَمَرْتَنِي بِهَا، وَوَعَدْتَنِي عَلَيْهَا الْجَنَّةَ، وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَبْشِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس کی تصدیق مجلس میں موجود سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بھی فرمائی کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم میں سے کوئی اجنبی (اہل کتاب میں سے کوئی شخص) ہے؟ ہم نے عرض کیا: نہیں، یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دروازے بند کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”ہاتھ اٹھا کر «لا اله الا الله» کہو“، چنانچہ ہم نے اپنے ہاتھ بلند کر لیے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ نیچے کر کے فرمایا: ”الحمد للہ! اے اللہ! تو نے مجھے یہ کلمہ دے کر بھیجا تھا، مجھے اسی کا حکم دیا تھا، اس پر مجھ سے جنت کا وعدہ کیا تھا اور تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا“، پھر فرمایا: ”خوش ہو جاؤ کہ اللہ نے تمہاری مغفرت فرما دی۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17121]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف راشد بن داود
الحكم: إسناده ضعيف لضعف راشد بن داود