زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زَيْدٍ ، عُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ ، شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، أَنَّهُ بَكَى، فَقِيلَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ، فَذَكَرْتُهُ، فَأَبْكَانِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ: " أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي الشِّرْكَ، وَالشَّهْوَةَ الْخَفِيَّةَ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُشْرِكُ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ:" أَمَا إِنَّهُمْ لَا يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا حَجَرًا وَلَا وَثَنًا، وَلَكِنْ يُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ، وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ: أَنْ يُصْبِحَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا، فَتَعْرِضُ لَهُ شَهْوَةٌ مِنْ شَهَوَاتِهِ، فَيَتْرُكُ صَوْمَهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک دن وہ رونے لگے، کسی نے رونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک بات سنی تھی، وہ یاد آ گئی اور اسی نے مجھے رلایا ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اپنی امت پر شرک اور شہوت خفیہ کا اندیشہ ہے، میں نے عرض کیا، یا رسول! کیا آپ کے بعد آپ کی امت شرک کرے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! لیکن وہ چاند، سورج اور پتھروں اور بتوں کی عبادت نہیں کریں گے بلکہ اپنے اعمال ریاکاری کے لئے کریں گے، اور شہوت خفیہ سے مراد یہ ہے کہ انسان روزہ رکھ لے پھر اس کے سامنے اپنی کوئی خواہش آ جائے اور وہ اس کی وجہ سے روزہ توڑ دے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17120]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، عبدالواحد بن زيد متروك
الحكم: إسناده ضعيف جدا، عبدالواحد بن زيد متروك